نئی دہلی ،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کولے کر آر ایس ایس کے چیف جسٹس موہن بھگت نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عدالت کاجو فیصلہ آئے گااسے قبول کیاجائے گا۔ موہن بھاگوت یہ رائے سفارتکاروں کے وفدسے ملاقات کے دوران رکھی۔انگریزی اخبارانڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق پروگرام میں موھن بھاگوت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رام مندر پرکورٹ جو بھی فیصلے کرے گاوہ ان کی تنظیم کوقبول ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پروگرام کے دوران، آر ایس ایس کے سربراہ نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم مودی بہت سے مسائل پر اچھی بات کرتے ہیں۔در اصل اس پروگرام کے دوران ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات تک رام مندر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ساتھی ہی ان سے مرکزی حکومت میں آر ایس ایس کے دخل کے بارے میں بھی سوال کیاگیا تھا۔جواب میں انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس بی جے پی نہیں چلاتا اور بی جے پی سنگھ کو نہیں چلاتا،جی ہاں ہم نظریہ ہونے کے ناطے تبادلہ خیال کیاجاتاہے۔
انڈیافاؤنڈیشن کی طرف سے منعقدہ اس پروگرام میں50سے زائد ممالک سے کے سفارت کار شامل ہوئے۔اس دوران بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو اور سول ایوی ایشن وزیر جینت سنہا بھی موجود تھے۔بتادیں کہ یہ کیس ا بھی سپریم کورٹ میں ہے۔عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر رام مندر۔بابری مسجد تنازعہ باہمی رضامندی سے سلجھ جاتاہے ہے تووہ مدد کرے گی۔